US Conducts Sixth Consecutive Day of Airstrikes on Iran; Bandar Khamir Bridge Destroyed, 7 Killed, Several Injured

امریکا کے ایران پر مسلسل چھٹے روز فضائی حملے، بندر خمیر میں پل تباہ، 7 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

واشنگٹن / تہران:امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جہاں امریکی فوج نے مسلسل چھٹے روز بھی ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور اس کے فوجی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچانا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ حملوں میں صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر بندر خمیر میں واقع اہم کیہوارستان پل کو رات گئے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پل کو شدید نقصان پہنچا۔ بعد ازاں ایرانی خبر رساں اداروں نے تصدیق کی کہ حملے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ریسکیو اداروں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جبکہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں میں بندر عباس کے ایک رہائشی علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے شہری انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ متعدد عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ بندر عباس کے قریب ایک پہاڑی پر نصب مواصلاتی ٹاور بھی امریکی حملے کی زد میں آیا، جس کے باعث شہر کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہوگئی۔

امریکی حکام نے حملوں میں نشانہ بنائے گئے تمام مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور مالی نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔

علاقائی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دے رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں