Canada stops arms sales to Israel

کینیڈا نے اسرائیل کو اسلحہ فراہمی روک دی، دنیا کے دیگر ممالک نے بھی پابندیاں لگائیں

کینیڈا اسرائیل کو تمام فوجی سازوسامان کی ترسیل روکنے والا نیا ملک بن گیا ہے۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ میلینی جولی نے منگل کے روز اعلان کیا کہ حکومت اسرائیل کو مزید اسلحہ نہیں بھیجے گی۔ یہ فیصلہ کینیڈین پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کی جانب سے ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی ایک غیر پابند قرارداد منظور کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔

میلینی جولی نے ٹورنٹو اسٹار اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ایک حقیقی فیصلہ ہے”۔

کینیڈا کے اس اقدام کے بعد نیدرلینڈز، جاپان، اسپین اور بیلجیئم بھی ان ممالک میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی محدود یا معطل کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔

تاہم کئی مغربی ممالک اب بھی اسرائیل کو فوجی سازوسامان فراہم کر رہے ہیں، جن میں امریکا سب سے نمایاں ہے۔

اسرائیل کو سب سے زیادہ ہتھیار کون فراہم کرتا ہے؟

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2013 سے 2022 کے دوران اسرائیل کی ہتھیاروں کی درآمدات میں

اڑسٹھ فیصد حصہ امریکا کا تھا
اٹھائیس فیصد حصہ جرمنی کا تھا

امریکا اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی اتحادی ہے اور طویل عرصے سے اسے دفاعی سازوسامان فراہم کرتا آ رہا ہے۔ امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد بھی دیتا ہے۔

غزہ جنگ کے دوران امریکا نے اسرائیل کو بھاری بموں اور دیگر جدید ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی۔ امریکی کانگریس میں اسرائیل کے لیے اضافی 14 ارب ڈالر کے فوجی امدادی پیکیج کی منظوری بھی زیرِ غور رہی۔

جرمنی بھی اسرائیل کو اہم فوجی سامان فراہم کرتا ہے

جرمنی اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ جرمن ہتھیار اسرائیل کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 28 فیصد بنتے ہیں۔

جرمنی زیادہ تر اسرائیل کو

فضائی دفاعی نظام کے پرزے
مواصلاتی آلات
فوجی ٹیکنالوجی

فراہم کرتا ہے۔

سنہ 2023 میں جرمنی کی جانب سے اسرائیل کو فوجی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا

برطانیہ کی اسرائیل کو فوجی برآمدات

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق برطانیہ نے 2015 سے اسرائیل کو کم از کم 474 ملین پاؤنڈ (تقریباً 594 ملین ڈالر) کے فوجی سامان کی برآمدات کی اجازت دی۔

ان میں شامل ہیں

طیاروں کے پرزے
میزائل ٹیکنالوجی
ٹینکوں کا سامان
گولہ بارود

ایف 35 جنگی طیاروں کے پرزے

کینیڈا کی جانب سے اسلحہ روکنے کا فیصلہ

کینیڈا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کو مکمل ہتھیاروں کے نظام فراہم نہیں کرتی، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ کینیڈا نے گزشتہ برسوں میں اسرائیل کو فوجی سامان فراہم کیا ہے۔

کینیڈین گروپس کے مطابق 2015 سے اب تک کینیڈین کمپنیوں نے اسرائیل کو تقریباً 84 ملین ڈالر سے زائد کا فوجی سامان برآمد کیا۔

کینیڈین حکومت کے اسرائیل کو مزید ہتھیار نہ بھیجنے کے فیصلے کا انسانی حقوق کے کارکنوں نے خیر مقدم کیا ہے۔

آسٹریلیا اور فرانس کا موقف

آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد اس نے اسرائیل کو کوئی ہتھیار فراہم نہیں کیے، تاہم بعض گروپس حکومت سے مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فرانس میں بھی فلسطین کے حامی مظاہرین نے فرانسیسی کمپنیوں سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کون کون سے ممالک نے اسرائیل کو ہتھیار روکنے کے اقدامات کیے؟
نیدرلینڈز

نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ اسرائیل کو F-35 جنگی طیاروں کے پرزوں کی برآمد روک دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ خدشہ ہے کہ یہ سامان بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔

بیلجیئم

بیلجیئم کی ایک علاقائی حکومت نے اسرائیل کو بارود برآمد کرنے کے دو اجازت نامے معطل کیے۔

جاپان

جاپانی کمپنی ایٹوچو کارپوریشن نے اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ شراکت ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اسپین

اسپین نے اعلان کیا کہ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فروخت نہیں کیے گئے، تاہم کچھ پرانے معاہدوں کے تحت سامان بھیجے جانے کی رپورٹس سامنے آئیں۔

اٹلی

اٹلی نے کہا کہ اس نے جنگ شروع ہونے کے بعد نئے فوجی سامان کی فراہمی روک دی ہے، تاہم پہلے سے کیے گئے معاہدوں کے تحت کچھ ترسیلات جاری رہیں۔

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا کردار

جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے میں عالمی عدالت انصاف نے جنوری میں ایک عبوری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا اور اسرائیل کو ایسے اقدامات روکنے چاہئیں جو نسل کشی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

اس فیصلے کے بعد دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی حکومتوں پر دباؤ بڑھایا کہ وہ اسرائیل کو فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی روکیں۔

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ ان ممالک کے قانونی اور سیاسی کردار سے بھی متعلق ہے جو اسے فوجی مدد فراہم کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں