نیدرلینڈز نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد، خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ڈچ حکومت نے منگل کے روز ایک حکم نامے کی حتمی منظوری دے دی، جس کے تحت 22 ستمبر سے نیدرلینڈز میں ان اشیاء کی درآمد، خریداری اور فروخت پر پابندی ہوگی جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس فیصلے کے بعد نیدرلینڈز یورپ کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف یکطرفہ تجارتی اقدامات کیے ہیں۔ یہ معاملہ زیادہ تر مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق ہے، جنہیں عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک اس معاملے پر اب بھی تقسیم کا شکار ہیں۔ اگرچہ کئی یورپی حکومتیں پورے یورپی بلاک کی سطح پر ایسی پابندیوں کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہیں، تاہم ابھی تک 27 رکنی یورپی یونین میں اس حوالے سے مشترکہ پالیسی طے نہیں ہو سکی۔
نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ تجارتی پابندی پہلے ہی منصوبے کا حصہ تھی، تاہم اس کے نفاذ کی تاریخ اب مقرر کی گئی ہے۔ گزشتہ سال ڈچ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کی اکثریت نے ان اقدامات کی حمایت کی تھی۔
نئے قانون کے تحت ڈچ کمپنیوں کے لیے ایسی بروکریج یا تجارتی سہولت کاری کی خدمات فراہم کرنا بھی غیر قانونی ہوگا جو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت کو آسان بناتی ہوں۔ یہ پابندی بیرون ملک کام کرنے والی ڈچ کمپنیوں پر بھی لاگو ہوگی۔
نیدرلینڈز اپنی سازگار ٹیکس پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں کا مرکز ہے، اسی لیے حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ قانون بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی ڈچ کمپنیوں کو بھی متاثر کرے گا۔
اس اقدام کے ذریعے نیدرلینڈز، اسپین اور جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ شامل ہو گیا ہے، جو یورپی یونین کے اندر اسرائیلی پالیسیوں اور غزہ و مقبوضہ علاقوں کی صورتحال کے حوالے سے آزادانہ اقدامات کر رہے ہیں۔
ڈچ کونسل آف اسٹیٹ نے اس پالیسی پر کوئی اعتراض نہیں کیا، تاہم اس نے اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے کچھ خدشات ظاہر کیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان خدشات سے پہلے ہی آگاہ تھی اور قانون تیار کرتے وقت ان پر غور کیا گیا تھا۔
نیدرلینڈز کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں عالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ پابندی اس ذمہ داری کے تحت عائد کی جا رہی ہے کہ نیدرلینڈز ایسی صورتحال میں کسی قسم کا تعاون نہ کرے۔
دوسری جانب ہالینڈ کے دائیں بازو کے سیاست دان گیرٹ وائلڈرز نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ وہ اس اقدام پر “گہری شرمندگی” محسوس کرتے ہیں۔
غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت کے اعداد و شمار
فلسطینیوں کے حق میں قانونی کارروائیاں کرنے والی تنظیم گلوبل ایکو کی جانب سے جون میں جاری کی گئی تحقیق کے مطابق، نیدرلینڈز اسرائیلی غیر قانونی بستیوں سے ہونے والی زرعی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ حاصل کرتا ہے، جبکہ یورپی یونین کے لیے جانے والی ان برآمدات میں نیدرلینڈز کا حصہ تقریباً نصف ہے۔
ان بستیوں سے درآمد کی جانے والی اشیاء میں زیادہ تر زرعی مصنوعات شامل ہیں، جن میں
ایووکاڈو
کھجوریں
سنترے
انگور
تازہ جڑی بوٹیاں
شامل ہیں۔
یہ پابندی مقبوضہ گولان ہائٹس سے آنے والی مصنوعات پر بھی لاگو ہوگی، جو خاص طور پر شراب کی پیداوار کے لیے مشہور علاقہ ہے۔
متعلقہ علاقوں کے ساتھ ہونے والی سالانہ تجارت کا حجم کئی کروڑ یورو تک پہنچنے کا اندازہ لگایا جاتا ہے، تاہم اس کی درست مالیت کا تعین مشکل ہے۔
نیدرلینڈز کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔









