بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، تاہم اس بار وجہ ان کی نئی فلم یا کسی بڑے پراجیکٹ کا اعلان نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو ہے، جس نے مداحوں کو ان کی صحت کے حوالے سے فکر مند کر دیا ہے۔
حال ہی میں سلمان خان نے سلم ری ہیبیلیٹیشن اتھارٹی (ایس آر اے) کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید ڈیٹا کلیکشن اینڈ ویریفیکیشن سپورٹ سینٹر (آئی ٹی سرور روم) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اداکار نے مستحق افراد میں گھروں کی چابیاں بھی تقسیم کیں اور حکام سے مختلف منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
تقریب کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صارفین کی توجہ سلمان خان کی جسمانی حالت پر مرکوز ہو گئی۔ وائرل ویڈیو میں اداکار کو سادہ لباس میں دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان کی پہلے کے مقابلے میں دبلی پتلی شخصیت اور قدرے تھکے ہوئے انداز نے مداحوں کو حیران کر دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا سلمان خان کی طبیعت ٹھیک ہے یا وہ کسی بیماری کا شکار ہیں۔ کئی مداحوں نے تبصرہ کیا کہ اداکار معمول سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ بعض نے ان کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دعا بھی کی۔
دوسری جانب سلمان خان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ان کے دفاع میں بھی سامنے آئی۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ 60 برس کی عمر میں کسی بھی شخص کی جسمانی ساخت میں تبدیلی آنا ایک قدرتی عمل ہے اور سلمان خان نے بغیر کسی مصنوعی انداز کے عوام کے سامنے آ کر اپنی سادگی اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اداکار کی ظاہری شکل کو بنیاد بنا کر ان کی صحت کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا درست نہیں۔
واضح رہے کہ سلمان خان گزشتہ کئی برسوں سے فلمی دنیا کے مصروف ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور متعدد ایکشن فلموں کی شوٹنگ، فلاحی سرگرمیوں اور عوامی تقریبات میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس لیے بعض مداحوں کا خیال ہے کہ مسلسل مصروفیات اور بڑھتی عمر کی وجہ سے ان کی شخصیت میں قدرتی تبدیلی آئی ہے۔
فی الحال سلمان خان یا ان کی ٹیم کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف مداح ان کی صحت کے لیے دعاگو ہیں تو دوسری جانب کئی افراد ان کے نئے انداز اور عمر کو قدرتی طور پر قبول کرنے کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔









